*محفل ایصال ثواب بموقع چہارم مرحوم جناب محمد عبدالحلیم راعین صاحب نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ اختتام پذیر*
✍🏻مفتی سراج احمد قادری مصباحی، ممبئی، انڈیا
والد محترم، مرحوم جناب محمد عبدالحلیم راعین صاحب کے چہارم کے موقع پر ایک نہایت روحانی، باوقار اور ایمان افروز محفل ایصال ثواب کا انعقاد کیا گیا، جو ذکر و اذکار، درود و سلام، تلاوت قرآن کریم، نعت و منقبت، وعظ و نصیحت اور رقت آمیز دعاؤں کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچی۔ محفل کا ہر لمحہ مرحوم کے لیے دعائے مغفرت، ایصال ثواب اور حاضرین کے لیے فکرآخرت و اصلاح اعمال کا پیغام بن کر سامنے آیا۔
اس بابرکت محفل میں مفتیان کرام، علمائے عظام، مشائخ کرام، دارالعلوم قادریہ غوثیہ کے اساتذۂ کرام، طلبۂ عظام، شعرائے کرام، نعت خواں حضرات، معزز سماجی شخصیات اور مرغیا چک و اطراف کے عوام و خواص کی کثیر تعداد نے شرکت کرکے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت، ایصال ثواب اور اہل خانہ سے اظہار تعزیت و ہمدردی کیا۔ حاضرین نے مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے بارگاہِ الٰہی میں خصوصی دعائیں کیں۔
محفل کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، جس کے بعد نعت و منقبت کا روح پرور سلسلہ جاری رہا۔ شعرائے کرام اور ثنا خوانان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پرسوز اور ایمان افروز کلام کے ذریعے سامعین کے دلوں میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم محبت اہلِ بیت اطہار اور اولیائے کرام کی عقیدت کی شمعیں روشن کردیں، جس سے پورا ماحول روحانی کیفیت میں ڈوب گیا۔
اس کے بعد دارالعلوم قادریہ غوثیہ کے معزز اساتذۂ کرام حضرت مفتی نیاز صاحب قبلہ اور حضرت مولانا غلام مذکر صاحب نے موت کی حقیقت، زندگی کی بے ثباتی، آخرت کی تیاری اور انسان کی شرعی ذمہ داریوں پر نہایت مدلل، مؤثر اور سبق آموز گفتگو فرمائی۔ مقررین نے اس حقیقت پر زور دیا کہ دنیا عارضی ہے جبکہ آخرت دائمی زندگی ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے۔
بعد ازاں حضرت مفتی رضاء الدین صاحب قبلہ نے قرآن و سنت کی روشنی میں حیات و موت کے فلسفے کو انتہائی دلنشیں اور حکیمانہ انداز میں بیان کرتے ہوئے
فرمایا کہ انسان کی اصل کامیابی دنیاوی مال و دولت یا جاہ و منصب میں نہیں بلکہ ایمان، تقویٰ، اخلاص اور اعمال صالحہ میں ہے۔ آپ نے حاضرین کو توبہ، استغفار، حسن اخلاق اور حقوق العباد کی ادائیگی کی تلقین فرمائی۔
برادر اصغر حافظ و قاری محمد معراج مرکزی صاحب نے اپنے جامع اور مدلل خطاب میں قرآن و حدیث کے متعدد حوالوں سے موت کی ناگزیریت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ دنیا کا ہر ذی روح ایک دن موت کا ذائقہ چکھنے والا ہے، اس لیے ہر انسان کو غفلت کی زندگی چھوڑ کر اپنی آخرت سنوارنے کی فکر کرنی چاہیے۔ آپ نے فرمایا کہ قیامت کے دن کسی کا حسب و نسب، دولت یا اقتدار کام نہیں آئے گا بلکہ ایمان اور اعمال صالحہ ہی نجات کا ذریعہ ہوں گے، اس لیے ہر مسلمان کو اپنے رب کے حضور جواب دہی کا احساس ہمیشہ اپنے دل میں زندہ رکھنا چاہیے۔
اس کے بعد مفتی سراج احمد قادری مصباحی صاحب قبلہ نے نہایت فکر انگیز، مدلل اور ایمان افروز خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ایصال ثواب امت محمدیہ ﷺ کے عظیم امتیازات میں سے ایک عظیم الشان نعمت اور خصوصی سعادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے صدقے اس امت کو یہ شرف عطا فرمایا ہے کہ وہ اپنی نیکیاں، تلاوت قرآن، صدقات، خیرات، دعا، درود شریف اور دیگر اعمال صالحہ کا ثواب اپنے مرحومین کو پہنچا سکتی ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے نہ صرف مرحومین کو اس سے نفع پہنچاتا ہے بلکہ ایصال ثواب کرنے والوں کو بھی بے شمار اجر و ثواب اور رحمتوں سے نوازتا ہے۔
آپ نے فرمایا کہ امت محمدیہ ﷺ "امت مرحومہ" ہے، جس پر دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتیں سایہ فگن رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس امت کے زندہ افراد اپنے مرحومین کے لیے دعا، استغفار، صدقہ اور دیگر نیک اعمال کے ذریعے ان کے درجات بلند کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یہ اسلامی تعلیمات کا نہایت حسین اور رحمت بھرا پہلو ہے کہ مرنے کے بعد بھی اہل ایمان کے ساتھ خیر خواہی اور نفع رسانی کا سلسلہ منقطع نہیں ہوتا۔
مفتی صاحب نے فرمایا کہ والدین کے حقوق صرف ان کی زندگی تک محدود نہیں بلکہ ان کے وصال کے بعد بھی اولاد کی اہم ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے لیے مسلسل دعا کرے، قرآن کریم کی تلاوت کرے، صدقہ و خیرات کرے اور ہر ممکن نیکی کا ثواب انہیں پہنچائے۔ جو اولاد اپنے والدین کے لیے دعائے مغفرت کا اہتمام کرتی ہے وہ درحقیقت اپنی دنیا و آخرت دونوں کو سنوارتی ہے۔
آپ نے نوجوانوں کو خصوصی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ آج کا دور فتنوں، گناہوں اور بے راہ روی کا دور ہے، لہٰذا نوجوان اپنے ایمان، کردار اور اخلاق کی حفاظت کریں، نمازوں کی پابندی اختیار کریں، قرآن کریم سے اپنا تعلق مضبوط کریں، والدین کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھیں اور زندگی کو سنت رسول ﷺ کے مطابق گزارنے کی کوشش کریں۔ آپ نے فرمایا کہ انسان جب دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے، اس وقت اسے اپنے اہل خانہ کی دعاؤں، استغفار، صدقات اور ایصال ثواب کی شدید ضرورت ہوتیہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے تمام مرحومین کو کبھی دعاؤں سے فراموش نہ کریں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر مفتی صاحب نے فرمایا کہ جو شخص موت کو یاد رکھتا ہے وہ گناہوں سے بچنے، نیک اعمال اختیار کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور یہی فکر انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے۔
اختتامی خطاب میں پیر طریقت، قاضی شہر سیتامڑھی، حضرت علامہ مولانا محمد اسلم القادری صاحب قبلہ، پرنسپل دارالعلوم قادریہ غوثیہ مرغیا چک نے مختصر مگر نہایت مؤثر نصیحتیں فرمائیں۔ آپ نے مرحوم کے لیے مغفرت، بلندیٔ درجات، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ بعد ازاں صلاۃ و سلام پیش کیا گیا اور قاضیِ شہر سیتامڑھی صاحب قبلہ کی رقت آمیز، جامع اور روح پرور دعا پر یہ نورانی و ایمان افروز محفل اختتام پذیر ہوئی۔
اس موقع پر حضرت علامہ مولانا محمد طیب عالم نوری صاحب قبلہ (ناظم اعلیٰ دارالعلوم قادریہ غوثیہ)، حضرت علام و مولانا محمد جمیل اختر مصباحی، حضرت حافظ و قاری ولی الرحمن صاحب قبلہ، حضرت مولانا مفتی سرفراز عالم صاحب، حضرت حافظ و قاری اعجاز احمد نظامی، حضرت مولانا شہباز صاحب، حضرت حافظ و قاری محمد شاہنواز، حضرت مولانا محمد افتخار عالم، حضرت مولانا محمد اعجاز احمد سمیت دارالعلوم قادریہ غوثیہ کے جملہ اساتذۂ کرام، طلبۂ عظام، معزز شخصیات، اہلِ خاندان، رشتہ داروں اور عوام و خواص کی بڑی تعداد شریکِ محفل رہی۔
محفل کے اختتام پر والد گرامی مرحوم جناب محمد عبدالحلیم راعین صاحب کے ایصال ثواب کے لیے خصوصی دعا کی گئی اور بارگاہ رب العزت میں دست بدعا ہو کر ان کی کامل مغفرت، وسیع رحمت، بلندئ درجات اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمانے کی التجا کی گئی، نیز تمام مرحومین اہل ایمان کی بخشش اور امت مسلمہ کی سلامتی و اتحاد کے لیے بھی خصوصی دعائیں کی گئیں۔
