تقریب استقبال و اعتراف خدمات ادیب شہیر ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی حفظہ اللہ
پریس ریلیز نیپال اردو ٹائمز
*زیر اھتمام: فخرملت فاؤنڈیشن نیپال (دوحہ قطر)*
مورخہ 03/جولائی/2026ء بعد نماز جمعہ مبارک بمقام سوادیلو ہوٹل، مُرہ دوحہ قطر میں ملک نیپال کی متحرک وفعال غیر سیاسی تنظیم"فخر ملت فاؤنڈیشن "کے زیر اہتمام استقبالیہ تقریب بنام "اعتراف خدمات ڈاکٹر حضرت علامہ انوار احمد خاں بغدادی مدظلہ العالی والنورانی" منعقد کی گئی۔جس میں حضرت بغدادی صاحب قبلہ کی علمی،تحقیقی اور تبلیغی خدمات کا ذکر کر کے انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
تقریب کا آغاز حسب دستور حضرت حافظ وقاری محمد حامد رضا برکاتی ضیائی صاحب نے تلاوت قرآن مجید سے کیا۔ تلاوتِ کلام اللہ کے بعد بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نذرانہ عقیدت پیش کرنے کا شرف جناب حافظ احمد رضا صاحب کو ملا جنہوں نے کلام الامام امام الکلام کا مشہور زمانہ کلام "سنتے ہیں کہ محشر میں صرف ان کی رسائی ہے" پڑھ کر تمام حاضرین کو محظوظ کیا۔خطبۂ استقبالیہ پیش کرنے کے لیے فاؤنڈیشن کے جنرل سیکریٹری شاعر اہل سنت ادیب شہیرحضرت مولانا محمد علاءالدین امن ؔرضوی زیدمجدہ و علمہ کھڑے ہوئے اور اپنے اچھوتے انداز میں تمام حاضرین بالخصوص عظیم مہمان حضرت مبلغ اسلام ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی صاحب قبلہ کا خیر مقدم کیا۔اسی درمیان موصوف نے فاؤنڈیشن کا مختصر تعارف اور خدمات پیش کرنے کے بعد حضرت مبلغ اسلام کی حیات اور ان کی خدمات دینیہ کے حوالے سے گفتگو کی۔
اس کے بعد حضرت مولانا مفتی کلام الدین نعمانی صاحب قبلہ نے حضرت مبلغ اسلام کی بارگاہ میں تہنیتی کلام پیش کیا جسے انھوں نے خود ترتیب دیا تھا۔پھر حضرت مولانا عبدالجبار علیمی صاحب (چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز) خطاب کے لیے تشریف لائے،انھوں نے اپنے بیان میں صدر فاؤنڈیشن مولانا محمد عابد حسین سمیت تمام اراکین و ممبران کو حوصلہ افزائی اور مبارکباد پیش کرنے کے بعد مہمان خصوصی حضرت بغدادی صاحب قبلہ کی عرب ممالک میں علماے اہل سنت کی نمائندگی پر روشنی ڈالا اور فخرملت فاؤنڈیشن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس کے سرپرست اعلی بزرگ عالم دین،عطائے حضور حافظ ملت،مفتیٔ اعظم نیپال،امین شریعت دوم حضرت علامہ مفتی محمد اسرائیل قادری رضوی مصباحی المعروف بہ حضور فخر نیپال قبلہ دامت برکاتہم القدسیہ کی دینی خدمات کا ذکر کرکے خراج تحسین پیش کیا۔
پھر مہمان خصوصی مبلغ اسلام حضرت ڈاکٹر انوار احمد خان بغدادی صاحب قبلہ کا نصیحت آموز خطاب ہوا۔ آپ نےعالمی سطح پر اہل سنت کو درپیش جدید
چیلینجزپر نہایت خوبصورت اور جامع تقریر فرمائی جسے سن کر سوچ بدلنے، کردار سنوارنے اور مثبت تبدیلی کے ساتھ نئی جہت پر کام کرنے کا جذبہ صادق پیداہوا اور ان کے خطاب نایاب سے سامعین کےدل باغ بہار ہوگیے۔ آپ نے بھی فاؤنڈیشن اور حضور سیدی فخر نیپال قبلہ اور جانشین حضور فخر نیپال صاحب کی دینی خدمات کو سراہا اور یہ نصیحت فرمائی کہ دور حاضر کے چیلینجز کے مطابق ہمیں فاؤنڈیشن سے امید ہے کہ یوں ہی وہ دینی کام کرتے رہیں گے۔ حضرت مبلغ اسلام کی تقریر کے بعد جانشین حضور فخر نیپال حضرت مولانا محمد فضل یزدانی قادری امجدی مدظلہ العالی سامعین کے روبرو ہوئے اور آپ نے اپنے بیان میں حضرت مبلغ اسلام کے اخلاق وکردار اور ان کے علمی جاہ وجلال کا تذکرہ کیا بالخصوص حضرت مبلغ اسلام کی مسلک اعلی حضرت کی فروغ واشاعت کےلیے عرب دنیا کے تبلیغی اسفار پر مبارکباد پیش کی اور ان کی خدمات کے اعتراف میں فخر ملت فاؤنڈیشن کی طرف سے "فخر نیپال ایوارڈ" اور سپاس عقیدت پیش کیا۔ساتھ ہی ساتھ فاؤنڈیشن کے مطبوعہ کتب بھی بطور تحفہ حضرت مبلغ اسلام کو پیش کیا۔حضرت مولانا محمدشفیق رضا ثقافی (رکن فخر ملت فاؤنڈیشن نیپال) نے سپاس نامہ کو پڑھ کر حاضرین کو سنایا۔ اختتامی خطاب کے لیے ہندوستان کے شہر بنارس سے تشریف لائے ہوئے معزز مہمان باصلاحیت عالم دین حضرت علامہ رئیس الدین ازہری دام ظلہ العالی کو دعوت دی گئی۔ آپ کا پُرمغز مختصر بیان سن کر سامعین نے داد وتحسین پیش کی ۔آپ نے اپنے خطاب میں اس جانب توجہ دلائی کہ دور حاضر میں پڑھا لکھا طبقہ علما سے بہت دور ہیں اور اپنی دینی رہنمائی کے لیے الکٹرانک پلیٹ
فارم چیٹ جی پی ٹی، گوگل یا شوسل میڈیا کا سہارا لیتا ہے اور وہیں سے اپنے مسائل کا حل تلاش کرتاہے۔ اور حال یہ ہے کہ ان تمام پلیٹ فارم اور میدان کو ہم نے غیروں کے لیے چھوڑدیا ہے نتیجتا ہمارے فکرکے لوگ بھی ان کے بیانات و تحریرات سے استفادہ کرتے کرتے انھیں کے ہم فکر و ہم خیال ہوجاتے ہیں۔ لہذا ضرورت ہے کہ ہم سب مل کر قابل اور ذی استعداد علما و مفتیان کرام کو ان کاموں پر مامور کریں تاکہ یہ میدان بھی ہمارا رہے اوروہ لوگ جو الکٹرانک پلیٹ فارم سے ہی دین و مذہب سمجھنا چاہتے ہیں وہ بھی علما اہل سنت کےبیانات و تحریرات سے مستفید و مستفیض ہوں۔ اخیر میں فاتحہ خوانی اور حضرت مبلغ اسلام کی پُرسوز دعا کے بعد مجلس کا اختتام ہوا۔مجلس کے اتنظامی امور میں ناچیز کے ساتھ حضرت مولانا محمد
عابد حسین قادری، حضرت مولانا محمد مختاراحمد فخری، حضرت مولانا محمد انور بابا قادری اور جناب محمد صابر صاحب پیش پیش رہے۔
اس تقریب میں مذکورہ بالا کے علاوہ تقریبا دو درجن سے زائد علما و دانشوران نے شرکت فرمائی جن میں کچھ اسماے گرامی درج ذیل ہیں: حضرت مولانا احمد حسین شمسی،حضرت مولانا محمد سہیل احمد علیمی،حضرت مولانا محمد مناظر حسین ضیائی فخری، حضرت مولانا اکبر علی ثقافی، حضرت مولانا مجیب علیمی، مولانا محمد اسلم علیمی، مولانا شمشیر رضا علیمی ، محمد اول علیمی، حضرت مولانا حافظ عفراللہ علیمی، جناب محمد حامد وغیرہم۔
از قلم :(نواسۂ حضور فخرنیپال) محمد اختر رضا امجدی
(خازن فخر ملت فاؤنڈیشن نیپال)
علیمی برادران کا پیٖغام فخر ملت فاؤنڈیشن کے نام
نیپال اردو ٹائمز اور علیمی برادران قطر کی جانب سے فخر ملت فاؤنڈیشن کےجملہ اراکین و ممبران کی بارگاہ میں ہدیہ تبریک پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے اسلاف کی یادگار ماہر علوم عقلیہ و نقلیہ ادیب شہیر مبلع عالم اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر انوار احمد خاں بغدادی حفظہ اللہ کا پرتپاک استقبال کیا ہم دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ رب قدیر اس تنظیم کو اپنے امان میں رکھے ۔ آمین یا رب العالمین
