Sep 21, 2026 04:44 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
بارہمولہ کا یاسین ملک : ایک دیا اور سو طوفان

بارہمولہ کا یاسین ملک : ایک دیا اور سو طوفان

18 Sep 2026
1 min read

بارہمولہ کا یاسین ملک : ایک دیا اور سو طوفان

تحریر: تسلیمہ اختر

تحریر: تسلیمہ اختر

کشمیر کی سرزمین ہمیشہ ایسے لوگوں کو جنم دیتی رہی ہے جو اندھیروں میں روشنی بن کر ابھرتے ہیں۔ انہی شخصیات میں ایک نام انجینئر ملک یاسین حسن کا بھی ہے، جو بارہمولہ کی سرزمین سے اُٹھا ایک ایسا چراغ ہے جس نے اپنی محنت، علم اور خدمت کے جذبے سے معاشرے میں امید کی روشنی پھیلانے کی کوشش کی۔ واقعی کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خود تو ایک چھوٹا سا دیا ہوتے ہیں مگر ان کی روشنی سینکڑوں طوفانوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔

سادہ گھرانے سے انجینئر تک کا سفر

بارہمولہ کے ایک سادہ اور محنتی گھرانے میں پیدا ہونے والے ملک یاسین حسن کا بچپن عام بچوں کی طرح ہی تھا، مگر اس کے خواب عام نہیں تھے۔ بچپن ہی سے اس کے اندر کچھ مختلف کرنے کی تڑپ موجود تھی۔ وہ جانتا تھا کہ زندگی صرف اپنے لیے جینے کا نام نہیں بلکہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا بھی نام ہے۔ اسی سوچ نے اسے شروع سے ہی تعلیم کی طرف سنجیدہ اور محنتی بنا دیا۔

اس نے اپنی ابتدائی تعلیم مقامی اسکولوں سے حاصل کی۔ حالات آسان نہیں تھے، وسائل محدود تھے مگر حوصلہ بلند تھا۔ اسی یقین کے ساتھ اس نے تعلیم کا سفر جاری رکھا اور آگے بڑھتے ہوئے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔

انجینئر سے سماجی کارکن تک

مگر ملک یاسین حسن کی کہانی صرف ایک انجینئر بننے تک محدود نہیں رہی۔ اس نے اپنی تعلیم کو صرف ذاتی کامیابی کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے معاشرے کی خدمت کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں سے اس کی شخصیت ایک نئے روپ میں سامنے آئی — ایک سماجی کارکن اور ہیومن رائٹ ایکٹیوسٹ کے طور پر۔

آج وہ بارہمولہ، بانڈی پورہ، اوڑی، کپواڑہ اور سرینگر کے علاقوں میں ایک جانی پہچانی اور بااثر شخصیت ہیں۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو صرف باتیں نہیں کرتے بلکہ عملی میدان میں کام کرتے ہیں۔

1999 ملک یاسین حسن کو انڈیا اور پاکستان، خصوصاً جموں و کشمیر کے سینئر صحافی جانتے ہیں۔ انہوں نے کولیشن آف سول سوسائٹی کشمیر * کے ساتھ کام کی ملک۔ *جموں و کشمیر بارہ مولہ نمبردار ایسوسی ایشن کے قانونی مشیر اور بارہمولہ کے ترجمان ہیں۔ ساتھ ہی نارواہ اسپورٹس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں۔ انہوں نے ماتحت عدالتوں سے لے کر ہائی کورٹ تک عوامی مسائل پر کام کیا۔

قدرتی آفات میں ہراول دستہ

2005 کے قیامت خیز زلزلے میں ان کا کردار بہت اہم رہا۔ انہوں نے متاثرین تک راشن، دوائیں اور امداد پہنچائی۔ 2014 کے تباہ کن سیلاب میں وہ خود چار دن تک پانی میں پھنسے رہے، لیکن جیسے ہی باہر نکلے، سرینگر پہنچ کر ایک این جی او کے ساتھ

مل کر ریلیف کا کام شروع کر دیا اور سینکڑوں خاندانوں کی مدد کی۔ 2008 کے مشکل حالات میں بھی انہوں نے امن اور عوامی فلاح کے لیے اہم کردار ادا کیا۔

نوجوانوں اور ماحول کا محافظ

ملک یاسین حسن کا ماننا ہے کہ معاشرہ تب ہی مضبوط ہوتا ہے جب نوجوان باشعور ہوں۔ اسی لیے انہوں نے نوجوانوں کو منشیات سے بچانے کے لیے کھیل کا میدان چنا۔ درجنوں کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد کروائے اور کئی علاقوں میں پلے گراؤنڈ کا بندوبست بھی کروایا۔

وہ ماحول کے بھی محافظ ہیں۔ کہتے ہیں کہ "جنگلات صرف درختوں کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی بقا کی بنیاد ہیں۔ ایک درخت سال میں 118 کلو آکسیجن پیدا کرتا ہے جو چار لوگوں کے لیے کافی ہے۔" دیودار اور چیڑ کو وہ کشمیر کی پہچان قرار دیتے ہیں۔

قومی سطح پر پذیرائی

ان کی بے لوث خدمات کے اعتراف میں انہیں 2026 کے 'انڈیاز ان سنگ ہیروز ایوارڈ' کے لیے نامزد کیا گیا ہے جو وہ 22 فروری کو نئی دہلی میںوصول کریں گے۔ اس سے قبل 2018 میں بھی انہیں نئی دہلی میں ایک این جی او کی طرف سے ایوارڈ اور دستار بندی سے نوازا گیا تھا۔

قلم اور عوام کا رشتہ

ملک یاسین حسن پر گزشتہ برسوں میں کئی قلمکاروں نے لکھا۔ گریٹر کشمیر کے شوکت موٹا، بارہمولہ کے سماجی کارکن خالد پرویز، اور صحافی میر احسان نے

ان پر کئی بار خبریں شائع کیں۔ چند ماہ قبل تسلیمہ اختر نے ان پر تفصیلی فیچر "ایک دیا اور سو طوفان" کے عنوان سے لکھا جو وادی کے کئی اخبارات میں شائع ہوا۔

وہ خود بھی عوامی مسائل پر اخبارات میں مضامین لکھتے ہیں اور رینج آفیسر بارہمولہ رمیز راجہ سمیت اعلیٰ افسران سے ملاقاتیں کر کے عوام کے مسائل حل کرواتے ہیں۔

لوگ اسے ایک نڈر اور مخلص سماجی کارکن کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس کی آواز میں سچائی ہے اور عمل میں خلوص ہے۔ زندگی میں اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان اپنی صلاحیت کو معاشرے کی بھلائی کے لیے استعمال کرے۔

بارہمولہ کی زمین پر جلنے والا یہ دیا شاید چھوٹا ہو، مگر اس کی روشنی دور تک پھیل رہی ہے۔ یہ روشنی امید کی ہے، خدمت کی ہے۔ ملک یاسین حسن کی کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اندھیروں کو کوسنے سے بہتر ہے کہ ایک چراغ جلایا جائے۔ اور کبھی کبھی ایک ہی چراغ پورے آسمان کو روشن کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)