*مجدد الف ثانیؒ علیہ الرحمہ کا عرس مبارک اور آج کا عالمِ دین*
*قسط اول*
*کیا صرف عرس و فاتحہ کافی ہے؟ علمائے ربانیین کی راہ اور افراط و تفریط سے نجات*
محمد مجیب قادری حنفی العربی)
حامداً ومصلیاً!
قارئینِ کرام! 28 صفر المظفر، بروز بدھ، 12 اگست 2026ء کو مجدد الف ثانی، امام ربانی حضرت شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا عرسِ مبارک عقیدت و محبت کے ساتھ منایا گیا۔ اپنی اپنی حیثیت اور استطاعت کے مطابق لوگوں نے ایصالِ ثواب، فاتحہ خوانی اور دیگر معمولات کے ذریعے اس عظیم بزرگ سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔
لیکن یہاں ایک سوال ایسا ہے جس پر عوام و خواص، بالخصوص اہلِ علم اور مقررین کو ضرور غور کرنا چاہیے: کیا مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا عرسِ مبارک منانا، فاتحہ خوانی کرنا اور چند لمحوں کے لیے ان کی یاد تازہ کرلینا ہی ہمارے لیے کافی ہے؟ یا پھر عرسِ مجدد الف ثانیؒ ہمیں اس سے کہیں بڑا پیغام دے کر جاتا ہے؟
کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ جس بزرگ کی یاد میں ہم عرس مناتے ہیں، ان کی زندگی ہمیں کیا سکھاتی ہے؟ ان کی سیرت کیا پیغام دیتی ہے؟
ان کا کردار ہمارے لیے کیا نمونہ ہے؟
اور دین و ملت کی اصلاح کے لیے ان کی جدوجہد آج ہمارے لیے کس قدر قابلِ عمل ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ عرس صرف یاد کا نام نہیں، سبق لینے کا بھی موقع ہے؛
صرف عقیدت کے اظہار کا نام نہیں،
اپنے کردار کے محاسبے کا بھی موقع ہے۔ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا عرس ہر سال آتا ہے اور ہمیں یہ پیغام دے کر جاتا ہے کہ اگر ہم واقعی ان سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں صرف ان کا نام نہیں لینا، بلکہ ان کے مجددانہ کردار، حق گوئی، علمی بصیرت، اصلاحی جدوجہد اور دین کے لیے استقامت سے بھی سبق لینا ہوگا۔ آج جب ہمارے معاشرے میں فکری انتشار، افراط و تفریط، غیر ذمہ دارانہ خطابت اور مختلف سطحوں پر دینی قیادت کے کردار کے حوالے سے سوالات موجود ہیں، تو مجدد الف ثانیؒ کی سیرت ہمارے لیے ایک آئینہ بن سکتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ آج کے علماء کا کردار کیا ہونا چاہیے؟ مقررین کس طرح عوام کی اصلاح کریں؟
علمائے ربانیین کی راہ کیا ہے؟
علماءِ سوء سے کیسے بچا جائے؟
اور اگر اہلِ اقتدار ظلم و ناانصافی کریں تو ایک عالمِ دین کا شرعی، حکیمانہ اور باوقار طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے؟
انہی سوالات کے جوابات تلاش کرنے کے لیے آئیے، عرسِ مجدد الف ثانیؒ کے موقع پر ان کی سیرت کے آئینے میں اپنے دور اور اپنے کردار کا جائزہ لیتے ہیں۔
مجدد الف ثانیؒ: ایک شخصیت نہیں، ایک مجددانہ فکر، دنیا کے ہر دور میں ایسے فتنے جنم لیتے رہے ہیں جن کے مقابلے کے لیے صرف علم کا ہونا کافی نہیں ہوتا، بلکہ علم کے ساتھ بصیرت، اخلاص، تقویٰ، حکمت اور حق گوئی بھی ضروری ہوتی ہے۔ کبھی فتنہ عقیدے کے میدان میں سر اٹھاتا ہے، کبھی فکر و نظر کو متاثر کرتا ہے، کبھی معاشرتی اقدار کو کمزور کرتا ہے اور کبھی اہلِ علم کے کردار ہی کو آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔ ایسے ہی ادوار میں بعض شخصیات تاریخ کے افق پر نمایاں ہوتی ہیں جو صرف کتابیں نہیں پڑھتیں بلکہ زمانے کی نبض پہچانتی اور امت کی اصلاح کے لیے اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ انہی عظیم شخصیات میں امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی قدس سرہٗ کا نام نہایت نمایاں ہے۔ مجدد الف ثانیؒ کا تذکرہ صرف ماضی کی ایک عظیم شخصیت کا تذکرہ نہیں، بلکہ آج کے علماء، خطباء، مقررین اور دینی قیادت کے لیے بھی ایک آئینہ ہے۔ ان کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ عالمِ دین اپنے زمانے کے حالات سے بے خبر رہ کر صرف کتابوں تک محدود نہیں رہتا، بلکہ جہاں دین کی اصلاح اور امت کی رہنمائی کی ضرورت ہو وہاں اپنی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجدد الف ثانیؒ کی سیرت کو صرف تاریخی واقعات کے طور پر پڑھنا کافی نہیں، بلکہ اس میں اپنے موجودہ حالات کے لیے رہنمائی تلاش کرنا بھی ضروری ہے۔ عالم صرف عالم نہ ہو، عالمِ ربانی بننے کی کوشش کرے علم ایک عظیم نعمت ہے، مگر علم کے ساتھ اگر اخلاص اور خوفِ خدا نہ ہو تو یہی علم انسان کے لیے آزمائش بن سکتا ہے۔ عالمِ دین کی ذمہ داری عام آدمی سے کہیں زیادہ ہے، کیونکہ عوام اسے دین کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔ فتاویٰ رضویہ میں امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہٗ کے مکتوبات سے ایک نہایت فکر انگیز عبارت نقل کی گئی ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’یہ عبارت راقم نے مکتوبات امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی قدس اللہ سرہ العزیز کی جلد اوّل کے ص ۹۳ مکتوب ۳۳ سے نقل کی ہے،
اب جو لوگ شیطان کی وحی پر چلنا چاہتے ہیں وہ اپنے نفس کی شامت سے حزب الشیطان ہو جائیں، ان کے جلانے اور سزا دینے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے جہنم تیار کر رکھی ہے، اور جو شیطان سے کفر کرتے ہیں اور خدائے تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں ان کی فہمائش کے لیے علمائے ربانیین نے حکمِ شریعت مدلل لکھ دیا ہے، فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ، ج ۱۱، ص ۷)
قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا: فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ ۖ فَأَنّٰى تُصْرَفُونَ ۔
ترجمہ کنزالعرفان: ’’تو حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا ہے؟ پھر تم کہاں پھیرے جاتے ہو؟‘‘ یہاں ’’علمائے ربانیین‘‘ کا لفظ ہماری خصوصی توجہ چاہتا ہے۔ عالم ہونا ایک اعزاز ہے، لیکن عالمِ ربانی بننا ایک ذمہ داری ہے۔ عالمِ ربانی وہ ہے جو اپنے علم کو اپنی ذات کی بڑائی، شہرت، منصب یا دنیاوی مفاد کا ذریعہ نہیں بناتا، بلکہ دین کی حفاظت، شریعت کی سربلندی اور مخلوقِ خدا کی اصلاح کو اپنا مقصد بناتا ہے۔ وہ حق کو حق سمجھ کر بیان کرتا ہے، باطل سے بچنے کی دعوت دیتا ہے، اپنے نفس کا بھی محاسبہ کرتا ہے اور دوسروں کی اصلاح کرتے ہوئے اپنی اصلاح کو فراموش نہیں کرتا۔ اسی لیے آج ہر عالم اور مقرر کو اپنے
آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے: میں صرف عالم کہلانا چاہتا ہوں یا عالمِ ربانی بننے کی کوشش بھی کر رہا ہوں؟
علماءِ سوء سے بچنا کیوں ضروری ہے؟
علماءِ سوء کا نقصان صرف ان کی اپنی ذات تک محدود نہیں رہتا۔ ایک عام آدمی کی غلطی ایک محدود دائرے کو متاثر کرسکتی ہے، لیکن ایک عالم کی غلط بات سینکڑوں اور ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ اگر عالم اپنے علم کو نفس، تعصب، مفاد یا شہرت کے تابع کردے تو اس کا اثر معاشرے پر پڑتا ہے۔ اسی لیے علماء کے لیے خود احتسابی عام لوگوں سے زیادہ ضروری ہے۔ ہمیں دوسروں کے نام علماءِ سوء رکھنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ کہیں ہماری زبان، ہمارا منبر اور ہمارا طرزِ عمل ہمیں اس صف کے قریب تو نہیں لے جا رہا؟
علماءِ ربانیین کی فہرست میں اپنا نام شامل کروانے کی خواہش ہر عالم کے دل میں ہونی چاہیے، مگر صرف خواہش کافی نہیں؛ اس کے لیے علم کے ساتھ اخلاص، تقویٰ، دیانت، حکمت اور حق گوئی درکار ہے۔ ایک عالم کی اصل عزت اس کے لباس، منصب، شہرت یا مجمع کی کثرت سے نہیں، بلکہ اس کے علم، عمل، تقویٰ، اخلاص اور کردار سے ہوتی ہے۔ افراط و تفریط: جب اصلاح کے بجائے انتشار پیدا ہو آج کے دینی ماحول کا ایک اہم مسئلہ افراط و تفریط بھی ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک اہم مقام پر لکھا: ’’حضراتِ صوفیۂ نے لکھا ہے نہ شرک ہے نہ ضلالت۔ ہاں افراط و تفریط اس میں منجرِ ضلالت کی طرف ہے۔ تصریح اس کی مکتوباتِ مجددالف ثانی میں جابجا موجود ہے۔‘‘ (مجموعہ فتاویٰ عبدالحی، بحوالہ فتاویٰ رضویہ، ج ۸، ص ۱۴۰)
یہ اصول صرف ایک مخصوص مسئلے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ہمارے عمومی دینی مزاج کے لیے بھی غور طلب ہے۔ افراط و تفریط انسان کو اعتدال سے دور کردیتی ہے۔ دین ہمیں نہ بے جا سختی کی تعلیم دیتا ہے اور نہ ایسی نرمی کی اجازت دیتا ہے جس سے حق و باطل کا فرق ہی مٹ جائے۔ آج بعض مقررین کے اندازِ بیان میں جذبات اس قدر غالب آجاتے ہیں کہ تحقیق اور احتیاط پسِ پشت چلی جاتی ہے، اور بعض اوقات اختلافی مسائل کو اس انداز سے بیان کیا جاتا ہے کہ اصلاح کے بجائے عوام میں مزید انتشار پیدا ہوجاتا ہے۔ یہاں ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا: ہماری تقریر سے عوام سدھر رہے ہیں یا بکھر رہے ہیں؟
مقرر کا کام مجمع گرم کرنا نہیں، انسان بنانا ہے ایک مقرر کے سامنے بڑا مجمع ہو، لوگ نعرے لگائیں، تالیاں بجائیں اور اس کی تقریر سوشل میڈیا پر وائرل ہوجائے، تو یہ ضروری نہیں کہ وہ تقریر کامیاب بھی ہو۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ایک شخص نماز کا پابند ہوجائے، ایک نوجوان گناہ چھوڑ دے، ایک گھر میں صلح ہوجائے، ایک شخص اپنے اخلاق درست کرلے، ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے نفرت چھوڑ دے اور ایک انسان اپنے رب کے قریب ہوجائے۔ مقرر کا اصل کام مجمع کو گرم کرنا نہیں، انسان کو سنوارنا ہے۔ وہ جملہ جو چند لمحوں کے لیے تالیاں بجوا دے مگر لوگوں کے دلوں میں نفرت
پیدا کردے، اسے کامیاب خطاب و دعوت نہیں کہا جاسکتا۔ آج منبر اور مائیک دونوں ہمارے پاس امانت ہیں۔ ایک غیر ذمہ دارانہ جملہ ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے مقرر کو بولنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ میری بات حق بھی ہے؟ درست بھی ہے؟ مفید بھی ہے؟ اور اس کا انجام اصلاح ہوگا یا فساد؟
یہی وہ مقام ہے جہاں مجدد الف ثانیؒ کی سیرت ہمیں اپنے طرزِ دعوت اور اصلاح پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ ہمیں ایسی گفتگو کی ضرورت ہے جو دلوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرے، لوگوں کو سنتِ رسول ﷺ کی طرف لے جائے، اخلاق کو بہتر بنائے اور امت کے اندر خیر، محبت اور اصلاح کا جذبہ پیدا کرے۔
مقرر کی مقبولیت اس وقت حقیقی کامیابی بنتی ہے جب اس کی مقبولیت دین کی خدمت کا ذریعہ بنے، نہ کہ دین اس کی مقبولیت کا ذریعہ بن جائے۔
عرس سے سبق اور سیرت سے عمل ۔
مجدد الف ثانیؒ کا عرس ہمیں ہر سال یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے تعلقِ عقیدت کا جائزہ لینے کے ساتھ اپنے کردار کا بھی محاسبہ کریں۔ ہم ان کی بارگاہ میں عقیدت کے پھول پیش کریں، فاتحہ خوانی کریں، ایصالِ ثواب کریں، ان کا ذکر خیر کریں، یہ سب اپنی جگہ محبت کے مظاہر ہیں؛ لیکن اس محبت کا سب سے خوبصورت تقاضا یہ ہے کہ ہم ان کی زندگی سے کوئی سبق بھی اپنے ساتھ لے کر اٹھیں۔ اگر ہم ان کے نام پر محفل سجائیں لیکن اپنے علم میں اخلاص نہ لائیں، اگر ان کے تذکرے میں حق گوئی کے واقعات بیان کریں لیکن خودحق بات کہنے سے گھبرائیں، اگر ان کی اصلاحی جدوجہد کا ذکر کریں لیکن اپنے معاشرے کی اصلاح سے بے نیاز رہیں تو ہمیں اپنے تعلق اور محبت پر غور کرنا چاہیے۔
مجدد الف ثانیؒ کی سیرت ہمیں یہ سوچنے کی دعوت دیتی ہے کہ عالمِ دین اپنے دور کے حالات کو سمجھے، اپنے علم کو زندہ رکھے، اپنے کردار کو پاکیزہ بنائے اور امت کی اصلاح کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عرس محض ایک سالانہ یاد نہیں رہتا بلکہ ایک سالانہ محاسبہ بن جاتا ہے۔
اور یہی سوال اگلی قسط کی طرف لے جاتا ہے:
اگر عالمِ دین واقعی اصلاح کا ذمہ دار ہے تو اہلِ اقتدار کے ساتھ اس کا تعلق کیسا ہونا چاہیے؟
کیا حکمرانوں سے دور رہنا ہی تقویٰ ہے، یا ان کے قریب رہ کر بھی حق بات کہنا اور اصلاح کی کوشش کرنا ایک دینی ذمہ داری ہوسکتی ہے؟ یہی وہ پہلو ہے جس پر مجدد الف ثانیؒ کی سیرت آج کے علماء اور دینی قیادت کے لیے نہایت اہم رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ (جاری ہے)
خادم دارالافتاء البرکاتی علماء فاؤنڈیشن
13/08/2026ء
وقتِ تحریر: شب 3 بج کر 52 منٹ، حجازِ مقدس۔
*
