Aug 23, 2026 03:52 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
موہن بھاگوت کا بیان: امتِ مسلمہ کے لیے لمحۂ فکریہ!

موہن بھاگوت کا بیان: امتِ مسلمہ کے لیے لمحۂ فکریہ!

20 Aug 2026
1 min read

Editorial

موہن بھاگوت کا بیان: امتِ مسلمہ کے لیے لمحۂ فکریہ!

ایڈیٹر کے قلم سے ۔۔۔۔۔

دنیا کا دستور ہے کہ جب تک انسان اپنے گھر کے معاملات خود سنبھالتا ہے، اپنے خاندان کی بات سنتا ہے اور باہمی اعتماد کے ساتھ زندگی گزارتا ہے، گھر ایک جنت نما ماحول پیش کرتا ہے۔ لیکن جب گھر کے اندرونی معاملات میں باہر کے لوگ مداخلت شروع کر دیں اور اپنے مفادات کے لیے اختلافات کو ہوا دی جائے تو وہی گھر، جو کبھی امن و سکون کا گہوارہ تھا، انتشار اور خلفشار کا شکار ہو جاتا ہے۔

تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بیرونی قوتوں نے برصغیر کے سماجی اور مذہبی اختلافات کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا تو مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان موجود فطری فاصلے مزید بڑھائے گئے۔ نتیجتاً وہ معاشرہ، جہاں مختلف مذاہب کے لوگ صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارتے آئے تھے، رفتہ رفتہ باہمی بداعتمادی اور اختلافات کی لپیٹ میں آتا چلا گیا۔

آج ایک بار پھر ہندوستانی تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کا عید میلاد النبی ﷺ اور مسلمانوں کے باہمی معاملات سے متعلق بیان بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کسی شخص نے کیا کہا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے مذہبی اور داخلی معاملات میں بیرونی تنظیموں کو بولنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟

مسلمانوں کے درمیان فقہی اور فروعی مسائل موجود ہیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔ صدیوں سے علماءِ امت نے ان مسائل پر علمی گفتگو کی ہے۔ اختلافِ رائے کو علمی دائرے میں رکھتے ہوئے باہمی احترام کے ساتھ آگے بڑھنا ہی امت کی روایت رہی ہے۔ لیکن جب انہی اختلافات کو سیاسی یا تنظیمی مفادات کے لیے استعمال کیا جائے تو معاملہ تشویش ناک ہو جاتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں امتِ مسلمہ کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی بیرونی قوت ہمارے اختلافات کو موضوع بنا کر ایک طبقے کو دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کی کوشش کرے تو ہمیں جذبات کے بجائے حکمت، بصیرت اور اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر بیان کا جواب بیان سے دینا ضروری نہیں؛ بعض اوقات خاموشی، تدبر اور اتحاد ہی سب سے مؤثر جواب ہوتا ہے۔

نیپال کے مسلمانوں کے لیے یہ معاملہ مزید اہم ہے۔ ہمارا ملک ایک جمہوری ریاست ہے اور یہاں رہنے والے تمام شہریوں کو آئین اور قانون کے دائرے میں اپنے مذہبی و شہری حقوق حاصل ہیں۔ الحمدللہ نیپال میں مسلمانوں کے درمیان باہمی تعلقات اور مذہبی معاملات کو سنبھالنے کے لیے ہمارے اپنے علماء، دینی ادارے اور ذمہ دار شخصیات موجود ہیں۔ ہمیں اپنے مسائل کے حل کے لیے کسی بیرونی تنظیم یا بیرونی نظریے کی ضرورت نہیں۔

ہمیں خاص طور پر اس بات سے محتاط رہنا ہوگا کہ کہیں کوئی بیرونی بیان ہمارے درمیان موجود معمولی اختلافات کو نفرت اور تصادم کا ذریعہ نہ بنا دے۔ آج اگر ہمیں عید میلاد النبی ﷺ کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کل کسی دوسرے فروعی مسئلے کو بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔ اس لیے اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم اختلاف کو اختلاف ہی رہنے دیں، اسے دشمنی نہ بننے دیں۔

نیپال اردو ٹائمز کا واضح موقف ہے کہ ہم اپنے ملک کے آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کا احترام کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ ساتھ ہی ہم ہر ایسی کوشش سے خبردار رہنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں جو نیپال کے پرامن معاشرے میں مذہبی نفرت یا باہمی کشیدگی پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔

ہم علمائے کرامِ نیپال، دینی و سماجی رہنماؤں اور تمام باشعور مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ایسے بیانات کو جذباتی ردِعمل کے بجائے حکمت اور اتحاد کے ساتھ دیکھیں۔ اپنے اختلافات کو خود علمی اور دینی طریقے سے حل کریں اور کسی بھی بیرونی قوت کو ہمارے درمیان نفرت کا بیج بونے کا موقع نہ دیں۔

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)